17 سے 22 جولائی 2026 کے دوران ایف بی آر نے کیا بدلا
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے فٹ ویئر سپلائی چین، ٹیکس مقدمات اور کسٹمز کارگو سے متعلق متعدد اقدامات شائع کیے ہیں، لیکن ان سب کی قانونی حیثیت ایک جیسی نہیں۔ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 11/2026 یکم جولائی 2026 سے قابلِ عمل وضاحت ہے، جبکہ S.R.O. 1130(I)/2026 کسٹمز ٹرانس شپمنٹ قواعد میں حتمی ترامیم کرتا ہے۔ اس کے برعکس S.R.O. 1138(I)/2026 اور S.R.O. 1141(I)/2026 واضح طور پر جانچ کمیٹیوں کے مسودہ قواعد آرا کے لیے شائع کرتے ہیں۔ کاروباروں کو حتمی اقدامات پر عمل کرنا چاہیے، مگر مسودوں کو ابھی قانون نہیں سمجھنا چاہیے۔
مربوط پی او ایس نظام سے فروخت ہونے والے فٹ ویئر کے لیے واضح سیلز ٹیکس طریقہ
فنانس ایکٹ 2026 نے ہر قسم کے فٹ ویئر کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تیسرے شیڈول کے سیریل نمبر 65 میں شامل کیا، تاہم ایسے مینوفیکچرر کے لیے استثنا رکھا گیا جو اپنی مصنوعات صرف اپنے ایف بی آر ڈیجیٹل طور پر مربوط اور پی او ایس کمپلائنٹ آؤٹ لیٹس کے ذریعے فروخت کرتا ہو۔ ایف بی آر نے دستاویزی سپلائی چین میں اس قاعدے کے اطلاق کی وضاحت کے لیے 17 جولائی کو سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 11/2026 جاری کیا۔
آرڈر چار صورتوں کو سیریل نمبر 65 کے ریٹیل پرائس پر مبنی نظام سے باہر رکھتا ہے:
- رجسٹرڈ مینوفیکچرر اپنے ایف بی آر سے مربوط اور پی او ایس کمپلائنٹ آؤٹ لیٹس کے ذریعے فٹ ویئر فراہم کرے۔
- امپورٹر رجسٹرڈ مینوفیکچررز یا ایف بی آر سے مربوط، پی او ایس کمپلائنٹ ریٹیلرز کو سپلائی کرے۔
- ایف بی آر سے مربوط، پی او ایس کمپلائنٹ ریٹیلر صارفین کو فروخت کے لیے براہِ راست سامان درآمد کرے۔
- ڈیجیٹل طور پر مربوط رجسٹرڈ مینوفیکچرر یا رجسٹرڈ امپورٹر کسی رجسٹرڈ کارپوریٹ ادارے، سرکاری محکمے، خود مختار ادارے یا قانونی ادارے کو اس کے اپنے استعمال کے لیے سپلائی کرے۔
ان صورتوں میں سیلز ٹیکس سیکشن 2(46) کے تحت ویلیو آف سپلائی پر عائد ہوگا۔ سیریل نمبر 65 کے تحت آنے والی درآمدات کے لیے آرڈر کہتا ہے کہ ٹیکس کسٹمز ایکٹ کے سیکشن 25 کے مطابق طے شدہ ویلیو کے 130 فیصد پر، قابلِ اطلاق کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت، عائد ہوگا۔ آرڈر یکم جولائی 2026 سے نافذ ہے۔
فٹ ویئر مینوفیکچررز، امپورٹرز اور برانڈ ریٹیلرز کو دیکھنا چاہیے کہ ان کی رجسٹریشن، پی او ایس انٹیگریشن، انوائسز اور خریدار کی درجہ بندی مطلوبہ ٹیکس ٹریٹمنٹ کو ثابت کرتی ہے۔ یہ سہولت صرف پی او ایس مشین استعمال کرنے پر نہیں بلکہ مکمل دستاویزی اور الیکٹرانک طور پر قابلِ تصدیق سپلائی چین پر منحصر ہے۔
انکم ٹیکس مقدمات کی جانچ ابھی تجویز ہے، حتمی قاعدہ نہیں
21 جولائی کے S.R.O. 1138(I)/2026 میں آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹیوں کے لیے نیا انکم ٹیکس رول 231CB تجویز کیا گیا ہے۔ مسودہ متاثرہ افراد کو سرکاری گزٹ میں اشاعت کے بعد تین دن کے اندر ایف بی آر کو اعتراضات یا تجاویز بھیجنے کا موقع دیتا ہے۔
مجوزہ کمیٹیاں جانچیں گی کہ ایف بی آر کو ہائی کورٹ میں ریفرنس یا سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں پٹیشن دائر کرنی چاہیے یا نہیں۔ وہ زیر التوا مقدمات کا جائزہ، طے شدہ قانونی سوالات کا ڈیٹابیس، اور ایسے بار بار سامنے آنے والے مسائل کی نشاندہی بھی کریں گی جن کے لیے قانونی یا انتظامی تبدیلی درکار ہو سکتی ہے۔
مسودے کے مطابق کمشنر متعلقہ ATIR یا ہائی کورٹ کا حکم موصول ہونے کے دس دن کے اندر کیس بھیجے گا۔ کمیٹی عام طور پر پندرہ دن میں سفارش مکمل کرے گی۔ مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں، دیگر قانونی تقاضوں کے تابع، کیس کو فائلنگ کے لیے کلیئر سمجھا جائے گا۔ یہ تمام طریقہ کار ابھی مجوزہ ہے اور اس کا عملی اثر حتمی نوٹیفکیشن کی عبارت پر منحصر ہوگا۔
کسٹمز مقدمات کے لیے بھی متوازی مسودہ فریم ورک
22 جولائی کا S.R.O. 1141(I)/2026 آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹی کسٹمز رولز 2026 کا مسودہ شائع کرتا ہے اور سرکاری گزٹ میں اشاعت کے بعد سات دن کے اندر اعتراضات یا تجاویز کی اجازت دیتا ہے۔
مسودے میں شمال، وسطی، جنوبی اول اور جنوبی دوم کے لیے چار علاقائی کمیٹیاں تجویز کی گئی ہیں۔ کسٹمز ریفرنس یا پٹیشن دائر کرنے سے پہلے جانچ لازمی ہوگی، عمل مخصوص پی ایس ڈبلیو پورٹل یا ترمیم شدہ وی بوک نظام کے ذریعے ہوگا، اور فیصلے کے لیے پندرہ دن کے ساتھ ممکنہ دس دن کی توسیع رکھی گئی ہے۔ مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہونے پر کیس کو فائلنگ کے لیے کلیئر سمجھا جائے گا۔
اگرچہ مجوزہ قواعد کے متن میں فوری نفاذ کی عبارت موجود ہے، لیکن ابتدائی نوٹیفکیشن انہیں مشاورت کے لیے مسودہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے ٹیکس دہندگان اور مشیروں کو مجوزہ عمل پر انحصار کرنے سے پہلے ایف بی آر کے حتمی نوٹیفکیشن کا انتظار کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ قواعد میں حتمی تبدیلی
17 جولائی کا S.R.O. 1130(I)/2026 بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لیے کسٹمز رولز 2001 میں حتمی ترامیم کرتا ہے۔ اہم تبدیلیوں میں کنٹینر اور سیل نمبر کی شرط صرف کنٹینرائزڈ کارگو کے لیے، بندرگاہوں کے درمیان نقل و حرکت کے لیے لائسنس یافتہ بانڈڈ کیریئر، کسٹمز نگرانی میں ڈرائی بلک کارگو کی پیکنگ، اور کنٹینرائزڈ کارگو و بلک یا ایل سی ایل کارگو کے لیے مختلف مدت شامل ہیں۔ ترامیم رسک کی بنیاد پر اسکیننگ اور غیر معمولی صورتوں میں محدود توسیع کی بھی اجازت دیتی ہیں۔
شپنگ لائنز، بانڈڈ کیریئرز، ٹرمینل آپریٹرز اور بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ استعمال کرنے والے امپورٹرز کو پرانے مسودے کے بجائے حتمی متن کے مطابق آپریٹنگ ہدایات اور دستاویزی کنٹرول اپڈیٹ کرنے چاہییں۔
متاثرہ کاروبار اب کیا کریں
- فٹ ویئر کاروبار: ہر سپلائی روٹ کو سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 11/2026 کی امپلیمنٹیشن میٹرکس سے ملائیں اور ایف بی آر پی او ایس انٹیگریشن و خریدار کی حیثیت کا ثبوت محفوظ رکھیں۔
- ٹیکس مقدمات کے فریق اور مشیر: دونوں اسکروٹنی کمیٹی مسودوں کا جائزہ لیں، سرکاری گزٹ میں اشاعت کی تاریخ کی تصدیق کریں، اور متاثر ہونے کی صورت میں مقررہ مدت کے اندر رائے دیں۔
- کسٹمز اور لاجسٹکس آپریٹرز: حتمی S.R.O. 1130 کے مطابق کارگو شناخت، بانڈڈ نقل و حرکت، مدت اور اسکیننگ کے طریقے اپڈیٹ کریں۔
- ہر ادارہ: داخلی مشوروں، معاہدوں اور کمپلائنس چیک لسٹس میں حتمی آرڈرز اور مسودوں کو الگ رکھے۔
ایف بی آر کے سرکاری ماخذ
- سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 11/2026 - ڈیجیٹل طور پر مربوط اور پی او ایس کمپلائنٹ ریٹیلرز کے ذریعے فٹ ویئر کی سپلائی
- S.R.O. 1138(I)/2026 - آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹیوں کے لیے مسودہ انکم ٹیکس رول 231CB
- S.R.O. 1141(I)/2026 - آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹی کسٹمز رولز کا مسودہ
- S.R.O. 1130(I)/2026 - بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ قواعد میں حتمی ترامیم
خلاصہ
اس ہفتے سب سے فوری کمپلائنس تبدیلی فٹ ویئر سیلز ٹیکس امپلیمنٹیشن میٹرکس ہے، جو یکم جولائی سے مؤثر ہے، اور اس کے ساتھ کسٹمز ٹرانس شپمنٹ کی حتمی ترامیم ہیں۔ اسکروٹنی کمیٹی فریم ورک ایف بی آر کے مقدمات کے فیصلوں کو زیادہ منظم بنانے کی سمت دکھاتے ہیں، لیکن حتمی شکل ملنے تک یہ مشاورتی مسودے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون 24 جولائی 2026 کو دیکھے گئے ایف بی آر کے سرکاری دستاویزات کا خلاصہ ہے اور کسی مخصوص لین دین کے لیے قانونی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ اقدام سے پہلے سرکاری گزٹ کی تاریخ، بعد کی ترامیم اور حتمی نوٹیفکیشنز کی تصدیق کریں۔
