ایف بی آر نے 6 اور 7 اکتوبر 2026 کو کیا جاری کیا
زیرِ جائزہ مدت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سیلز ٹیکس کا ایک حتمی نوٹیفکیشن اور قواعد کے پانچ مسودے جاری کیے۔ حتمی اقدام کے ذریعے رجسٹرڈ چمڑا، کاغذ اور پیپر بورڈ مینوفیکچررز کو فوری طور پر الیکٹرانک پیداواری نگرانی کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ باقی دستاویزات میں زندہ جانوروں کی برآمدی سہولت، غیر مقیم شپنگ ریٹرن، خودکار انکم ٹیکس جانچ، ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ اور ایف بی آر نظام سے انضمام کے ٹیکس کریڈٹ سے متعلق مجوزہ تبدیلیاں شامل ہیں۔
نیچے دی گئی تاریخیں سرکاری دستخط شدہ دستاویزات پر درج تاریخیں ہیں۔ یہ فرق اہم ہے: ایف بی آر کی فہرست میں S.R.O. 1752(I)/2026 کو ترمیم کہا گیا ہے، مگر اصل نوٹیفکیشن اسے واضح طور پر مسودہ قرار دے کر رائے طلب کرتا ہے۔ اس لیے اسے نافذ شدہ قاعدہ نہیں سمجھا گیا۔
حتمی قاعدہ: چمڑا، کاغذ اور پیپر بورڈ کی الیکٹرانک نگرانی
7 اکتوبر 2026 کے S.R.O. 1751(I)/2026 کے تحت چمڑا، کاغذ اور پیپر بورڈ بنانے والے رجسٹرڈ افراد کی پیداوار کی نگرانی سیلز ٹیکس رولز 2006 کے باب XIV-BA کے قاعدہ 150ZQR کے مطابق الیکٹرانک طور پر کی جائے گی۔ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ ہے۔
یہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعات 50 اور 40C کے تحت شعبہ جاتی کوریج کا نوٹیفکیشن ہے۔ صرف چمڑا یا کاغذی مصنوعات فروخت کرنے کی وجہ سے ہر تاجر پر یکساں ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اصل عبارت رجسٹرڈ مینوفیکچررز سے متعلق ہے، جبکہ عملی انضمام، رپورٹنگ اور آلات کی ضروریات کو موجودہ پیداواری نگرانی کے قواعد اور متعلقہ مینوفیکچرر پر لاگو ہدایات کے ساتھ پڑھنا ہوگا۔
درآمد شدہ زندہ جانوروں اور گوشت کی برآمد کے لیے کسٹمز مسودہ
7 اکتوبر کا S.R.O. 1752(I)/2026 کسٹمز رولز 2001 میں مجوزہ ترمیم ہے اور اس پر اعتراضات یا تجاویز کے لیے سات دن دیے گئے ہیں۔ اس میں درآمد شدہ گائے، بیل، بھیڑ اور بکریوں کے لیے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کا نیا ذیلی باب تجویز کیا گیا ہے۔
مسودے میں دو راستے ہیں۔ Track A کے تحت درآمد شدہ جانوروں کو فربہ کر کے انہی جانوروں کو زندہ دوبارہ برآمد کیا جائے گا۔ Track B میں فربہ کرنے، ذبح، پروسیسنگ اور گوشت و گوشتی مصنوعات کی برآمد شامل ہوگی۔ نئے یا توسیع شدہ فیڈ لاٹس، قرنطینہ مراکز اور برآمدی مذبح و پروسیسنگ پلانٹس کے لیے پراجیکٹ اجازت، اور منظور شدہ جانوروں، چارے و دیگر فربہی اشیا، پلانٹ اور مشینری پر ڈیوٹی و ٹیکس مؤخر کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
مسودے میں منظور شدہ مقامات، کوٹے، ضمانتیں، جانوروں کی شناخت و سراغ رسانی، قرنطینہ، نقل و حرکت، الگ ریکارڈ، انشورنس، اموات کی حدود، برآمدی کارکردگی اور سہ ماہی مفاہمت کی تفصیلی شرائط ہیں۔ Track A کا نفاذ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر اور بعد میں ہر نوع کے لیے الگ بورڈ نوٹیفکیشن سے بھی مشروط ہوگا۔ صرف S.R.O. نمبر موجود ہونے کی وجہ سے ان مجوزہ کسٹمز قواعد کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے۔
انکم ٹیکس رولز میں چار مجوزہ تبدیلیاں
ایف بی آر نے 6 اکتوبر کو انکم ٹیکس سے متعلق چار مسودہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیے۔ ہر مسودہ حتمی ہونے سے پہلے اعتراضات یا تجاویز طلب کرتا ہے۔
غیر مقیم شپنگ کے لیے الیکٹرانک ریٹرن
مسودہ S.R.O. 1689(I)/2026 انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 143 کے تحت ریٹرن کے لیے قاعدہ 37 تبدیل کرے گا۔ پاکستان سنگل ونڈو جہاز کی معلومات IRIS کو بھیجے گی اور ہر Vessel Intimation Report کے لیے ایک الیکٹرانک ریٹرن بنے گا۔ متعلقہ شپنگ ایجنٹس اور co-loaders منسلک Payment Slip IDs اور کمپیوٹرائزڈ ادائیگی رسیدیں استعمال کریں گے، اور ضروری ادائیگیاں منسلک ہونے تک ریٹرن جمع نہیں ہوسکے گا۔
تجویز میں جہاز کی روانگی سے پہلے الیکٹرانک توسیعی درخواست کا طریقہ بھی ہے۔ اس کے ساتھ متوقع قابلِ ٹیکس رقم، ٹیکس واجب الادا، سفر کی دستاویزات اور متوقع ذمہ داری کے برابر ضمانت درکار ہوگی۔ یہ ابھی مجوزہ ڈیجیٹل فائلنگ اور ادائیگی کا طریقہ ہے، کوئی نیا حتمی شپنگ ٹیکس قاعدہ نہیں۔
باضابطہ کارروائی سے پہلے خودکار جانچ
مسودہ S.R.O. 1690(I)/2026 دفعہ 120(2A) کے تحت خودکار جانچ کے لیے نیا قاعدہ 38B شامل کرے گا۔ IRIS حقائق یا قانون سے متعلق غلطیوں اور تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے آن لائن مشورہ یا پیشگی اطلاع بھیج سکے گا اور وضاحت یا درستگی کے لیے کم از کم سات دن دے گا۔ جواب نہ آنے پر کم از کم مزید سات دن کا یاددہانی نوٹس ہوگا، جس کے بعد ریکارڈ متعلقہ افسر کو قانون کے تحت ضروری کارروائی کے لیے بھیجا جاسکے گا۔
اس مسودے پر رائے کے لیے صرف تین دن دیے گئے ہیں۔ حتمی قواعد جاری ہونے تک مجوزہ دو مرحلہ اطلاع کو نافذ شدہ حق یا حتمی مدت نہیں کہنا چاہیے۔
تاخیر سے ریٹرن دینے والوں کے لیے ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ کا حلف نامہ
مسودہ S.R.O. 1691(I)/2026 دفعہ 182A(3) کے تحت IRIS میں Form ATL-U کا طریقہ تجویز کرتا ہے۔ مقررہ یا توسیع شدہ تاریخ کے بعد ریٹرن دینے والا فرد چھ ماہ تک کسی جائیداد کی ملکیت یا فائدہ مند حق حاصل نہ کرنے کا حلف دے کر معمول کا سرچارج ادا کیے بغیر ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل ہوسکے گا۔
تجویز کے مطابق چھ ماہ کی مدت IRIS کی وصولی کی تاریخ سے شروع ہوگی۔ ایف بی آر قانونی طور پر دستیاب معلومات سے عمل درآمد کی جانچ کرسکے گا۔ الیکٹرانک سماعت کے موقع کے بعد خلاف ورزی ثابت ہونے پر فائدہ خلاف ورزی کی تاریخ سے واپس لے لیا جائے گا اور تاخیر سے فائلنگ کا عام قاعدہ لاگو ہوگا۔ یہ ابھی مسودہ ہے اور ATL میں شامل ہونے کا عمومی طور پر دستیاب راستہ نہیں۔
انضمام کے ٹیکس کریڈٹ کی شرائط
مسودہ S.R.O. 1692(I)/2026 دفعہ 64D کے ٹیکس کریڈٹ کے لیے قاعدہ 33U شامل کرے گا۔ کریڈٹ صرف اس شخص کے لیے ہوگا جس پر قانوناً حقیقی وقت کی پیداواری نگرانی یا فروخت و وصولیوں کی رپورٹنگ کے لیے ایف بی آر نظام سے انضمام لازم ہو، متعلقہ الیکٹرانک وسیلہ اسی ٹیکس سال میں نصب، منسلک اور فعال کیا گیا ہو، اور وہ براہِ راست اور خصوصی طور پر اسی انضمام کے لیے استعمال ہو۔
مجوزہ قابلِ قبول رقم میں خریداری اور ایک مرتبہ کی تنصیب، interface development، testing اور implementation کے اخراجات شامل ہوں گے۔ قابلِ واپسی ٹیکس، معمول کی دیکھ بھال، بار بار آنے والی support فیس، انٹرنیٹ و مواصلات، تنخواہیں، تربیت، استعمالی اشیا، مالیاتی اخراجات اور غیر متعلقہ عمومی نظام شامل نہیں ہوں گے۔ دعویٰ کامیاب انضمام والے سال کے ریٹرن میں ہوگا اور تصدیق سے مشروط رہے گا۔ یہ شرائط بھی ابھی مجوزہ ہیں، حتمی نہیں۔
دیگر سرکاری ذرائع کی جانچ
سرکاری آرڈرز اور سرکلرز کی فہرست میں 30 ستمبر کے انکم ٹیکس ریٹرن توسیعی سرکلر کے بعد کوئی نیا عمومی سرکلر یا جنرل آرڈر نہیں ملا۔ یکم اکتوبر کا ایک دائرۂ اختیار آرڈر RTO Abbottabad کے اندر کیسز کی تقسیم بدلتا ہے، مگر یہ مقامی انتظامی تعیناتی ہے، عمومی ٹیکس قاعدے کی تبدیلی نہیں، اس لیے اسے مرکزی اپ ڈیٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔
سرکاری پریس ریلیز صفحے پر 6 اکتوبر کی دو خبریں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایف بی آر انفورسمنٹ اہلکاروں پر حملے سے متعلق ہیں۔ یہ اہم ادارہ جاتی خبریں ہیں مگر کسی ٹیکس قاعدے، فائلنگ تاریخ یا عمومی تعمیل کی تبدیلی کا اعلان نہیں کرتیں، اس لیے انہیں ٹیکس قانون کی اپ ڈیٹ نہیں سمجھا گیا۔
متاثرہ کاروبار کیا چیک کریں
- رجسٹرڈ چمڑا، کاغذ اور پیپر بورڈ مینوفیکچررز اپنی پیداواری لائنوں کی کوریج، قاعدہ 150ZQR اور متعلقہ انضمامی تقاضے چیک کریں، اور ایف بی آر یا IRIS کی براہِ راست عملی ہدایات پر نظر رکھیں۔
- شپنگ ایجنٹس، فیڈ لاٹس، گوشت برآمد کنندگان، تاخیر سے ریٹرن دینے والے افراد اور انضمام کا ٹیکس کریڈٹ دیکھنے والے کاروبار حتمی نوٹیفکیشن کے لیے سرکاری گزٹ اور ایف بی آر رجسٹر مانیٹر کریں۔ صرف مسودہ کسی فائلنگ طریقے، ٹیکس پوزیشن یا اہلیت کو خود سے تبدیل نہیں کرتا۔
- الیکٹرانک نوٹس یا انضمام کی ہدایت ملنے پر وہی اصل دستاویز اور جواب کی مدت پڑھیں جو متعلقہ ٹیکس دہندہ، شعبے اور ٹیکس مدت پر لاگو ہو۔
ایف بی آر کے سرکاری ذرائع
- S.R.O. 1751(I)/2026 مؤرخہ 7 اکتوبر 2026 - چمڑا، کاغذ اور پیپر بورڈ مینوفیکچررز کے لیے حتمی الیکٹرانک پیداواری نگرانی
- مسودہ S.R.O. 1752(I)/2026 مؤرخہ 7 اکتوبر 2026 - زندہ جانوروں کو فربہ کرنے اور برآمدی سہولت کے مجوزہ قواعد
- مسودہ S.R.O. 1689(I)/2026 مؤرخہ 6 اکتوبر 2026 - غیر مقیم شپنگ کے لیے مجوزہ الیکٹرانک ریٹرن
- مسودہ S.R.O. 1690(I)/2026 مؤرخہ 6 اکتوبر 2026 - مجوزہ خودکار انکم ٹیکس جانچ
- مسودہ S.R.O. 1691(I)/2026 مؤرخہ 6 اکتوبر 2026 - تاخیر سے فائلنگ کے لیے مجوزہ ATL-U حلف نامہ
- مسودہ S.R.O. 1692(I)/2026 مؤرخہ 6 اکتوبر 2026 - انضمام کے ٹیکس کریڈٹ کی مجوزہ شرائط
خلاصہ
اس ہفتے کی دستاویزات میں صرف S.R.O. 1751(I)/2026 حتمی اور فوری طور پر نافذ قاعدہ ہے۔ اس کے ذریعے رجسٹرڈ چمڑا، کاغذ اور پیپر بورڈ مینوفیکچررز کو الیکٹرانک پیداواری نگرانی میں شامل کیا گیا ہے۔ زندہ جانوروں کی برآمدی اسکیم اور انکم ٹیکس کے چاروں پیکیج ابھی تجاویز ہیں۔ ان کی تفصیل منصوبہ بندی اور رائے دینے کے لیے مفید ہے، مگر کاروبار انہیں قانون سمجھنے سے پہلے حتمی نوٹیفکیشن کا انتظار کریں۔
دستبرداری: یہ مضمون 12 اکتوبر 2026 کو دیکھے گئے ایف بی آر کے سرکاری دستاویزات کا خلاصہ ہے۔ یہ انفرادی انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز، فائلنگ، برآمد، مینوفیکچرنگ یا قانونی مشورہ نہیں۔ عمل سے پہلے موجودہ قانون، اصل دستاویز اور بعد کی کسی ترمیم کی جانچ کریں۔
